9650325368 business@supaultvtimes.in
URDU NEWS

تصنیف حیدر کی تحریر پر آخر اعتراض کیوں ؟

292views
Follow US on social media

برادرم تصنیف حیدر Tasneef Haidar کی تقریباً دس سال پرانی ایک تحریر ایک بار پھر وائرل کی جا رہی ہے، مجھے نہیں معلوم کہ آج بھی ان کی یہی رائے ہے یا نہیں۔ لیکن شاعری، اردو ادب اور اردو رسم الخط کے حوالے سے جو کچھ انہوں نے کہا ہے، وہ حد درجہ قابل اعتراض ہے۔ اگر اس تحریر کو اب دوبارہ وائرل کیا جا رہا ہے تو اس کا مقصد بھی ناقابل فہم ہے۔ تصنیف حیدر نے اپنی مذکورہ تحریر میں اردو ادب کو “زیادہ تر شاعری سے عبارت” قرار دیا، جو ایک سطحی اور غیر ذمہ دارانہ بات ہے۔ اردو ادب کا دائرہ بہت وسیع ہے، جس میں نثر، ناول، افسانہ، ڈراما، تنقید، تحقیق اور دیگر اصناف شامل ہیں۔ اردو کے بڑے نثرنگاروں میں سرسید احمد خان، مولانا حالی، شبلی نعمانی، پریم چند، کرشن چندر، بیدی، منٹو، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر، انتظار حسین، عبداللہ حسین، غلام عباس، اور محمد حسن عسکری جیسے سینکڑوں نام شامل ہیں۔ جنھوں نے اردو کی مختلف اصناف کو ثروت مند بنایا ہے۔ اردو نثر کا ذخیرہ کسی بھی ترقی یافتہ زبان کے ادب سے کم نہیں۔ شاعری صرف جذبات کا اظہار نہیں ہوتی بلکہ تہذیب و ثقافت کا آئینہ بھی ہوتی ہے۔ اور یہ کہنا کہ “شاعری زیادہ تر بے وقوفی ہے” نہ صرف اردو کے ساتھ بلکہ عالمی ادب کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔ اردو شاعری محض “بے وقوفی” نہیں، بلکہ یہ ایک بھرپور فکری و فنی روایت کی حامل ہے۔ غالب، میر، اقبال، فیض، جوش، فراق، اور ناصر کاظمی جیسے شعرا نے نہ صرف انسانی جذبات اور سماجی حالات کو بیان کیا، بلکہ فکری اور انقلابی تحریکوں کو بھی زبان دی۔ اگر کسی نے سطحی شاعری دیکھی ہو تو یہ اس کے مطالعے کی کمی کا نتیجہ ہو سکتا ہے، لیکن عمومی طور پر اردو شاعری ایک عظیم ادبی ورثہ ہے۔ میر، غالب، اقبال، فیض، جالب، فراق، ن م راشد، مجاز، اخترالایمان، شمس الرحمن فاروقی جیسے شعرا نے اردو شاعری کو محض جذباتیت سے نکال کر ایک فکری و تخلیقی سطح پر پہنچایا ہے۔ اس کے باوجود اگر شاعری کو بے وقوفی مان لیا جائے تو دنیا کے عظیم شعراء ہومر، ورڈزورتھ، کیٹس، ٹیگور، نرودا، محمود درویش اور رومی سب کے سب بے وقوف کہلائیں گے؟ تصنیف حیدر کی سب سے متنازع بات یہ ہے کہ وہ دیوناگری رسم الخط کو اردو کے لیے تجویز کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف زبان کی تاریخی جڑوں سے ناواقفیت کا ثبوت ہے بلکہ ایک غیر عملی اور غیر ضروری مطالبہ بھی ہے۔ اردو کا رسم الخط عربی-فارسی سے ماخوذ ہے اور اس کا صوتی نظام دیوناگری سے مختلف ہے۔ اردو کے بہت سے الفاظ اور آوازیں دیوناگری میں صحیح طور پر نہیں لکھی جا سکتیں۔ رسم الخط زبان کا ثقافتی ورثہ ہوتا ہے۔ جیسے جاپانی اپنی تین طرح کی تحریری اسکرپٹس کو نہیں چھوڑتے، جیسے چینی اپنی پیچیدہ اسکرپٹ پر قائم ہیں، جیسے روسی اپنے سیرلک اسکرپٹ کو ترک نہیں کر سکتے، ویسے ہی اردو کو دیوناگری میں لکھنے کی تجویز کسی علمی یا تاریخی بنیاد پر درست نہیں۔ ہندوستان میں سنسکرت، پالی، پراکرت، فارسی، بنگلہ، تمل، تیلگو، ملیالم اور مراٹھی جیسی زبانیں بھی مستعمل رہی ہیں اور کئی ابھی بھی مروج ہیں، لیکن کسی زبان نے کسی دوسری زبان کے رسم الخط کو نہیں اپنایا۔ تو پھر اردو کے لیے اس طرح کا مشورہ کیوں؟تصنیف حیدر نے دعویٰ کیا ہے کہ دیوناگری میں لکھنے سے “آئندہ نسلوں کی دال روٹی کا بہتر انتظام ہو سکتا ہے۔” یہ ایک انتہائی مضحکہ خیز بات ہے۔ زبان یا رسم الخط روزگار پیدا نہیں کرتے، بلکہ تعلیمی پالیسی، اقتصادی مواقع اور سماجی عوامل روزگار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر رسم الخط کا روزگار سے کوئی خاص تعلق ہوتا تو آج لاطینی رسم الخط رکھنے والی ساری زبانیں سب سے زیادہ معاشی طور پر ترقی یافتہ ہوتیں۔ اردو کے کئی نامور ادیب، دانشور، سائنسدان، سیاستدان، اور کاروباری شخصیات اپنے رسم الخط کے باوجود کامیاب ہیں۔ اردو کا اصل مسئلہ رسم الخط نہیں، بلکہ تعلیمی اور ادارہ جاتی سطح پر اس کی سرپرستی کا فقدان ہے۔ اگر رسم الخط کی تبدیلی سے ہی زبانیں ترقی کررہی ہوتیں تو آج ہندی اور فارسی سمیت کئی دوسری زبانوں کو بھی لاطینی رسم الخط میں منتقل کر دیا گیا ہوتا، کیوں کہ بظاہر لاطینی رسم الخط کی حامل زبان یعنی انگریزی ہی عالمی بالادستی قائم کی ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زبان کا فروغ معیاری ادب، بہتر تعلیمی نصاب، حکومتی سرپرستی، اور سماجی دلچسپی پر منحصر ہوتا ہے، نہ کہ رسم الخط کی تبدیلی پر۔ اگر کوئی شخص اپنی ذاتی ترجیحات کی بنیاد پر کسی زبان یا رسم الخط کے خلاف بولتا ہے تو یہ اس کا ذاتی معاملہ ہو سکتا ہے، لیکن کسی زبان کے رسم الخط کو ترک کرنے کی تلقین کرنا علم اور تہذیب کے خلاف ایک قدم ہے۔ زبانیں محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں، بلکہ قوموں کی تہذیب اور شناخت کا حصہ بھی ہوتی ہیں۔ اردو رسم الخط کو چھوڑنے کی دعوت دراصل ایک ثقافتی خودکشی کی دعوت ہے، جسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔تصنیف حیدر نے اپنی تحریر میں ایک اور متنازع بات یہ کہی کہ “تندرست گوشت خور داڑھی والے ملاؤں کو لات مار کر ایک دفعہ عقل سے کام لیجیے۔” یہ جملہ نہ صرف غیر علمی ہے، بلکہ ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنانے کی واضح کوشش ہے۔ ادب میں کسی بھی نظریے یا طبقے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے اس قدر تحقیر آمیز انداز میں بیان کرنا کسی بھی سنجیدہ علمی بحث کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ یہ جملہ خود ان کی غیر سنجیدگی اور تعصب کو ظاہر کرتا ہے۔ اردو کسی مخصوص مذہب کی زبان نہیں، بلکہ برصغیر کی مشترکہ تہذیبی میراث ہے۔ یہ وہی زبان ہے جسے سکھوں کے گروؤں نے استعمال کیا، جس میں بھگت کبیر نے دوہے لکھے، جس میں ویدانت پر مضامین تحریر کیے گئے۔ اردو کو ایک مذہبی شناخت میں قید کرنا علمی بددیانتی کے سوا کچھ نہیں۔ تصنیف حیدر کی یہ تحریر نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ اس میں ایک خاص ایجنڈا بھی نظر آتا ہے۔ اگر اردو کو کمزور کرنا مقصود ہے تو ایسی بے بنیاد باتوں کو عام کرنا اس کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ اردو ایک توانا زبان ہے، جو نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے کئی حصوں میں پھل پھول رہی ہے۔ رسم الخط کا مسئلہ اٹھا کر دراصل ایک ایسا تضاد پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو اصل مسائل سے توجہ ہٹا دے۔ اگر واقعی اردو کی ترقی مقصود ہے تو ہمیں اس کے فروغ کے عملی طریقوں پر غور کرنا چاہیے، جیسے کہ: اردو کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنا، یونیورسٹیوں اور اسکولوں میں اردو کی تعلیم کا معیار بلند کرنا، اردو ادب میں تحقیق اور تخلیق کو فروغ دینا، نئی نسل کو اردو میں سائنسی، سماجی اور فلسفیانہ موضوعات پر لکھنے کی ترغیب دینا وغیرہ۔تصنیف حیدر کی یہ تحریر وقتی جذبات یا کسی خاص ذاتی محرک کے تحت لکھی گئی معلوم ہوتی ہے، جس میں منطقی دلائل کی جگہ جذباتی حملے اور غیر معقول استدلال کو استعمال کیا گیا ہے۔ اردو شاعری کو “بے وقوفی” کہنا، اردو رسم الخط کو ترک کرنے کی وکالت کرنا، اور ایک مخصوص طبقے کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کرنا، یہ سب وہ نکات ہیں جو علمی مباحث کے بجائے تعصب اور جہالت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی یہ پرانی تحریر، اگر واقعی اب دوبارہ وائرل ہو رہی ہے، تو یہ ایک بے مقصد بحث کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ اردو کی ترقی اردو رسم الخط کو چھوڑنے یا دیوناگری کو اپنانے سے نہیں، بلکہ اسے جدید ضروریات کے مطابق ڈھالنے سے ممکن ہے۔ اردو کا مستقبل اس کے قارئین، ادباء و شعراء، اور اس کے چاہنے والوں کے ہاتھ میں ہے، نہ کہ کسی وقتی اور سطحی تجویز میں۔•(ڈاکٹر شاہد حبیب) ***

Leave a Response