
گردنی باغ میں احتجاجی گھن گرج: وقف ترمیمی بل کے خلاف تاریخی اجتماع اختتام پذیر پٹنہ، برکت اللہ غازی 26 مارچ 2025 )پٹنہ کا گردنی باغ آج ایک تاریخی احتجاجی تحریک کا مرکز بن گیا، جہاں بہار، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے کونے کونے سے آئے ہزاروں علمائے کرام، دانشوران، سیاسی و سماجی شخصیات، اور مختلف مذہبی و سماجی برادریوں کے نمائندوں نے وقف ترمیمی بل 2024 کے خلاف اپنی گھن گرج سے حکومت وقت کے ایوانوں کو لرزا دیا۔یہ عظیم الشان دھرنا آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیرِ اہتمام بہار کی تمام ملی جماعتوں کے اشتراک سے منعقد ہوا، جہاں ہر نعرہ حکومت کو اس کے آئینی اور اخلاقی زوال کی یاد دلاتا رہا۔ “بل واپس لو! بل واپس لو!” کی صدائیں فضاؤں میں گونجتی رہیں، جبکہ بینرز اور احتجاجی کتبے حکومت کے جابرانہ عزائم کے خلاف ایک ناقابلِ انکار چارج شیٹ کے مترادف تھے۔واضح رہے کہ دھرنے کے صدر نشین حضرت مولانا فضل الرحیم مجددی نے وقف ایکٹ میں ترمیم کو نہ صرف شریعت میں کھلی مداخلت قرار دیا بلکہ اسے عدل و انصاف کے بنیادی اصولوں کی صریح پامالی سے بھی تعبیر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ بل وقف املاک پر حکومتی تسلط کا نیا راستہ ہموار کرے گا اور مسلمانوں کے مذہبی و معاشی حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔امیر شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نے 44 دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم سے وقف کی بنیادی روح کو مسخ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوراً اس غیر آئینی بل کو واپس لے ورنہ ملک گیر تحریک کے لیے تیار رہے۔جماعت اسلامی ہند کے امیر، انجینئر سعادت اللہ حسینی نے اس بل کو سیکولرزم کے تابوت میں آخری کیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو جماعتیں اس کی حمایت کریں گی، وہ خود کو سیکولر کہنے کا حق کھو بیٹھیں گی۔سابق وزیر اعلیٰ بہار جناب لالو پرساد یادو نے کہا کہ یہ جنگ صرف مسلمانوں کی نہیں بلکہ ہر انصاف پسند ہندوستانی کی ہے، اور وہ اس تحریک میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے بھی این ڈی اے کی حلیف جماعتوں کو للکارتے ہوئے کہا کہ اگر وہ واقعی انصاف پسند ہیں تو فوراً مرکزی حکومت پر دباؤ بنائیں اور اپنی حمایت واپس لینے کی دھمکی دیں۔بی جے پی کی فسطائی سیاست پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مشہور بودھ رہنما بھیکو سینت پال نے کہا کہ حکومت ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کر کے اپنی سیاست چمکانے میں لگی ہوئی ہے، مگر اس سازش کو کسی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔بورڈ کے ترجمان جناب قاسم رسول الیاس نے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا کہ مسلمانوں کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے۔ انہوں نے پرجوش لہجے میں کہا، “ہم اپنی شناخت، عقیدے اور ورثے پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے۔ اگر حکومت نے ہمارے مذہبی حقوق پر حملہ جاری رکھا، تو ہر گلی، ہر کوچہ اور ہر چوراہا احتجاج کا مرکز بن جائے گا۔”دھرنے کی نظامت نائب قاضی شریعت، جناب مفتی وصی احمد قاسمی نے انتہائی ولولہ انگیز انداز میں انجام دی، وقفہ وقفہ سے نعرے بلند ہوتے رہے واضح رہے کہ اس تاریخی احتجاج میں سرزمین چھٹہی ہنومان نگر اور اس کے مضافات کے کئی جگہ سے لیکن لوگوں نے شرکت کی جس میں ہمارے گون سے محترم مولوی عبدالوحید صاحب محترم نور الحسن صاحب محترم محی الدین صاحب حافظ صغیر احمد صاحب مولانا مسعود عالم قاسمی مدرسہ زکریا سپول بھی شریک رہے پروگرام کا اختتام صدر اجلاس کے دعاؤں پر ہوا۔






