9650325368 business@supaultvtimes.in
URDU NEWS

سو پول کے ایک عظیم مدرسہ زوال کے دہانے پر۔۔۔ آخر ذمہ دار کون؟

71views
Follow US on social media

ضلع سو پول کے ایک عظیم مدرسہ زوال کے دہانے پر۔۔۔ آخر ذمہ دار کون؟مدرسہ اسلامیہ عربیہ چھٹی، ہنومان نگر ، 1957ء کی اجتماعی قربانی سے قائم ہونے والا علمی چراغ آج کس حال میں ہے؟کبھی یہاں علم کی صدا گونجتی تھی، کبھی طلبہ کی آمد سے صحن آباد رہتا تھا، کبھی باصلاحیت اساتذہ کی محنت سے تعلیمی ماحول روشن تھا، اور کبھی اس ادارے کو علاقے کی علمی شناخت سمجھا جاتا تھا؛ مگر آج اسی تاریخی ادارے کی تعلیمی حالت ایک ایسا سوال بن چکی ہے جس سے آنکھیں چرانا آسان نہیں۔مدرسہ اسلامیہ عربیہ چھٹی، ہنومان نگر کی بنیاد 1957ء میں مختلف معزز برادریوں کے لوگوں نے مل جل کر رکھی تھی۔ یہ کسی ایک خاندان، کسی ایک شخص یا کسی ایک طبقے کا ادارہ نہیں تھا، بلکہ یہ پورے علاقے کے اجتماعی اخلاص، اتحاد اور تعلیمی شعور کی پیداوار تھا۔ اس وقت کے لوگوں نے اپنی ضرورتوں، مصروفیات اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر ایک ایسا ادارہ قائم کیا جس سے آنے والی نسلوں کے مستقبل کو وابستہ کیا گیا۔ یہ مدرسہ غیر سرکاری امداد یافتہ ادارے کی حیثیت سے ایک طویل عرصے تک تعلیمی خدمات انجام دیتا رہا اور تقریباً 1957ء سے 2005ء تک اس کی تعلیمی سرگرمیاں قابلِ ذکر رہیں۔اس ادارے کی تاریخ صرف تاریخ نہیں بلکہ قربانیوں کی ایک داستان ہے۔ حضرت مولانا  الحاج نعمان صاحب اور الحاج حضرت مولانا سلطان صاحب  رحمۃ اللّٰہ علیہ مدرسے کے لیے محض دو شخصیات  ہی نہیں تھے بلکہ وہ پہاڑ کی مانند مضبوط سہارا تھے۔ ان کی محنت، اخلاص، وقت اور قربانیوں کو مدرسے کی تاریخ سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اس ادارے کو ایک علمی امانت سمجھا اور اس کے لیے اپنی بساط بھر جدوجہد کی۔ ان بزرگوں کی خدمات کا اعتراف دراصل اس نسل کے اخلاص کو سلام ہے جس نے اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے علم کا راستہ ہموار کیا۔اسی طرح مدرسے کی انتظامی جدوجہد میں سکریٹری الحاج محمد یاسین انصاری عرف نو نو بابو،ساتن پٹی اور دوسرے سکریٹری مرحوم دل محمد آمین بو رہا کی قربانیاں بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔ دونوں نے مدرسے کی خدمت میں وقت، صلاحیت اور توانائی صرف کی۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے نزدیک ادارہ محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی امانت تھا۔مگر آج سوال یہ ہے کہ ان قربانیوں کا ثمر کہاں ہے؟کیا ہم نے اس علمی امانت کو اسی مقصد کے لیے زندہ رکھا جس مقصد کے لیے ہمارے بزرگوں نے اسے قائم کیا تھا؟یہ سوال تلخ ہے، مگر شاید آج اسی تلخی کی ضرورت ہے۔اگر ایک تاریخی مدرسے میں طلبہ کی تعداد مسلسل کم ہوتی جائے، باصلاحیت اساتذہ کی کمی محسوس ہو، تعلیمی معیار اپنی سابقہ شناخت برقرار نہ رکھ سکے اور تدریس میں وہ جذبہ باقی نہ رہے جو کسی زندہ ادارے کی پہچان ہوتا ہے تو پھر صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ “مدرسہ تو چل رہا ہے۔”صرف عمارت کا قائم رہنا ادارے کے زندہ ہونے کی دلیل نہیں؛ ادارہ اس وقت زندہ ہوتا ہے جب اس کی کلاسیں آباد ہوں، اساتذہ محنت کررہے ہوں، طلبہ علم کے لیے بے چین ہوں اور والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اس پر اعتماد کریں۔آج سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر حالات واقعی کمزور ہوئے ہیں تو اس کی اصلاح کے لیے سنجیدہ قدم کیوں نہیں اٹھائے جارہے؟ اگر طلبہ کم ہوگئے ہیں تو والدین کا اعتماد واپس لانے کی مؤثر کوشش کہاں ہے؟ اگر اساتذہ کے معیار میں کمی ہے تو تعلیمی معیار بلند کرنے کے لیے واضح نظام کہاں ہے؟ اگر انتظامی مشکلات ہیں تو ان کا حل تلاش کرنے کے لیے اجتماعی مشاورت کہاں ہے؟اور پھر وہ سوال جس سے شاید سب سے زیادہ بے چینی پیدا ہو: آخر ذمہ دار کون؟اس سوال کا جواب کسی ایک فرد پر الزام لگا کر دینا مناسب نہیں۔ ذمہ داری کا تعین حقائق، ریکارڈ اور غیر جانب دار جائزے سے ہونا چاہیے۔ لیکن یہ ضرور طے ہونا چاہیے کہ ادارے کے زوال کو خاموشی سے دیکھتے رہنا بھی کسی مسئلے کا حل نہیں۔اساتذہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تدریس صرف وقت پورا کرنے کا نام نہیں۔ استاد کے سامنے بیٹھا ہوا ہر طالب علم ایک مستقبل ہے، ایک خاندان کی امید ہے اور معاشرے کی ایک امانت ہے۔ اسی طرح انتظامیہ کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ ادارہ چلانا اور ادارے کو آگے بڑھانا دو الگ چیزیں ہیں۔ صرف نظام کا چلتے رہنا کامیابی نہیں؛ نظام کا بہتر ہوتے رہنا کامیابی ہے۔اور معاشرے کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ جن لوگوں کے بزرگوں نے 1957ء میں مختلف برادریوں کو ساتھ لاکر یہ ادارہ قائم کیا تھا، اگر آج انہی لوگوں کی نئی نسل اس ادارے کی حالت سے بے خبر یا لاتعلق ہوجائے تو یہ صرف مدرسے کا نقصان نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی کمزوری ہے۔ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو صرف قصوں اور یادوں میں زندہ رکھیں گے یا ان کے خواب کو حقیقت میں زندہ کریں گے۔اب ضرورت ہے کہ مدرسے کی تعلیمی حالت کا کھلا اور دیانت دارانہ جائزہ لیا جائے، طلبہ کی کمی کی اصل وجوہات معلوم کی جائیں، باصلاحیت اور محنتی اساتذہ کو ترجیح دی جائے، تدریس اور حاضری کا مؤثر نظام قائم ہو، طلبہ کی تعلیمی کارکردگی باقاعدگی سے جانچی جائے، والدین سے مضبوط رابطہ قائم کیا جائے اور ادارے کے مستقبل کے لیے واضح تعلیمی منصوبہ تیار کیا جائے۔ماضی کی عظمت کا سب سے بڑا حق یہی ہے کہ حال کو بہتر بنایا جائے۔حضرت مولانا الحاج  نعمان صاحب، الحاج حضرت مولانا سلطان صاحب رحمۃ اللہ علیہ، الحاج محمد یاسین انصاری عرف نو نو  بابو  رحمۃ اللہ علیہ، ساتن پٹی اور مرحوم دل محمد آمین  بورہا جیسے مخلص لوگوں کی قربانیاں ہم سے یہ سوال کررہی ہیں کہ جس ادارے کے لیے انہوں نے اپنی توانائیاں صرف کیں، کیا ہم اسے صرف ایک عمارت کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں یا ایک بار پھر اسے علم و تربیت کا مرکز بنانا چاہتے ہیں؟یہ وقت کسی کی تذلیل کا نہیں، اصلاح کا وقت ہے؛ الزام تراشی کا نہیں، احتساب کا وقت ہے؛ خاموشی کا نہیں، بیداری کا وقت ہے۔مدرسہ اسلامیہ عربیہ چھٹی کا ماضی ہمیں شرمندہ نہیں کرتا، بلکہ ہمیں جگاتا ہے۔وہ 1957ء کی بنیاد ہمیں پکارتی ہے۔وہ بزرگوں کی قربانیاں ہمیں پکارتی ہیں۔وہ پرانے اساتذہ کی محنت ہمیں پکارتی ہے۔وہ سابق طلبہ کی یادیں ہمیں پکارتی ہیں۔اور آج کا کمزور تعلیمی منظرنامہ ہم سے صرف ایک سوال پوچھ رہا ہے:“اگر ہم نے اس ادارے کو نہ سنبھالا تو پھر کون سنبھالے گا؟”ایک عظیم مدرسہ زوال کے دہانے پر کھڑا ہو تو خاموش رہنا مسئلے کا حل نہیں؛ اسے دوبارہ علم، کردار اور تعلیمی معیار کی بلندی تک پہنچانا ہی ان بزرگوں کی قربانیوں کا حقیقی احترام ہے۔محمد ریاض الدین ندوی ڈائرکٹر۔  ٹی. آر. انگلش بورڈنگ اسکول نگر پنچایت  سمرا ہی بازار سو پول بہار موبائل نمبر 834044130

Leave a Response